27 اگست 2011 - 19:30

ليبيا ميں انقلابيوں نے دارالحکومت طرابلس ميں قذافي کے فوجي ٹھکانے پر بھي قبضہ کرليا ہے ـ

ابنا: جنوبي طرابلس ميں قذافي کے بيٹے خميس کي زيرکمان چھاوني پر قبضے کي کارروائي ميں شرکت کرنے والے چھتيس سالہ مجاہد نور الدين يوسف مصراتہ نے بتايا کہ اس علاقے پر پہلے نيٹو نے بمباري کي جس کے بعد ہمارے خصوصي دستے نے حملہ کيا ـ

طرابلس کے جنوب ميں پانچ کلوميٹر کے فاصلے پر واقع صلاح الدين نامي علاقے پر سات گھنٹوں تک جھڑپ ہوتي رہي ـ اس جھڑپ ميں کاميابي کے بعد انقلابيوں کو جرمن، امريکي، روسي اور اطالوي ہھتياروں کے ڈپو ملے ہيں ـ

چھاوني کے قريب پچاس جلي ہوئي لاشيں بھي ملي ہيں ـ دريں اثنا يہ قياس آرائياں کي جا رہي ہيں کہ ليبيا کا ڈکٹيٹر قذافي الجزائر بھاگ گيا ہےـ

عيني شاہدين کا کہنا تھا کہ جمعے کے دن چھے بلٹ پروف مرسڈيز گاڑيوں کا ايک کارواں قدامس سرحد سے الجزائر کي جانب گيا جس کے بارے ميں يہ خيال ہے کہ يہ قذافي کا ہي قافلہ تھا
............

/169